مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مصر کی قومی فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے ایک بار پھر فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں جاری مظالم پوری دنیا کے لیے باعث شرم ہیں اور غزہ کے عوام کو مزید اس اذیت میں تنہا نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی شهاب کے مطابق حسام حسن نے 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف میچ سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص فلسطینی عوام کے دکھ درد کو محسوس نہیں کرتا، وہ انسان نہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام کھلے آسمان تلے اور خیموں میں انتہائی سخت حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ انہیں خوراک کی کمی، بیماریوں اور دیگر انسانی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
حسام حسن نے کہا کہ ہزاروں بچوں اور خواتین کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے اور یہ پوری انسانیت کے لیے باعث شرم ہے کہ فلسطینی عوام کو ایسے حالات میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔
انہوں نے مغربی ممالک کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں کسی جانور کی موت پر حقوق حیوانات کے لیے مہم چلائی جاتی ہے، لیکن فلسطینیوں کے قتل پر دنیا خاموش رہتی ہے اور کسی کو اس انسانی المیے کی پروا نہیں۔
مصری کوچ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کو امن اور سکون کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کا پرچم بلند کرنا اس قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اس کے جائز حقوق کی حمایت کی علامت ہے۔
انہوں نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ خود کو ایک دن کے لیے فلسطینی عوام کی جگہ رکھ کر ان کے دکھ اور مشکلات کا احساس کریں۔
حسام حسن نے کہا کہ فٹبال اور ورلڈ کپ جیسے عالمی پلیٹ فارم سے ان کا پیغام صرف انسانیت کا ہے، اور دنیا کو چاہیے کہ فلسطینی عوام کو جینے کا حق دے، کیونکہ ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ انسان کو زندہ رہنے دیا جائے۔
آپ کا تبصرہ